Wednesday, December 30, 2020

وجہ تخلیق آدم

ا

 وجہ تخلیق آدم


 

للہ تعالی نے چھ دن میں زمین اورآسمان کو تخلیق کیا ،پھر نیلے آسمان کو سودج ،چاند اور ستاروں سے سجایا ، زمین پر بڑے بڑےپہاڑ اور سمندر قايم کیے ، تالاب اور چشمے جاری کیےآسمان سے پانی برسا کرمردہ زمین میں جان ڈالی،پھر زمین کو پیڑ،پودوں اور خوبصورت رنگین پھولوں سےسجایا اور طرح طرح کے پھل اگاۓاور سب کو مختلف قسم کی پتیاں اور خوشبو عطا کی 

مگر اللہ کیخوبصورت اوروسیع زمین انسانوں سے خالی تھی،روۓ زمین پر کسی انسان کا کوي مجسمہ تک نہ تھا ،نہ یہ مکانات تھے نہ باغات۔
نہ محل دو محلے
نہ آدم نہ آدم زاد
یہ زمین ایک لق ودق میدان تھی جس کا کوي اور چھور نہیں،اور وہ سنسان پڑی تھی اس کو کوي آباد کرنے والا نہ تھاسورج، سورج جب صبح ہوتے آنکھ کھولتا اور اپنے چہرے سے نقاب الٹ کر زمین پر نظر ڈالتا تو اس کے سواۓ لق و دق میدان  اور ویران  و گنجان آباد جنگل کے کچھ نہ نظر آتا،ساری زمین کے گرد گردش کرتا مگر اسے کوي انسان تو کیا انسان کا نام و نشان تک نہ نظر آتا ،آخر کار سارے دن پھر پھرا کر شام کو اپنی دھوپ سمیٹ کر واپس لوٹ جاتا،دھوپ جاتے ہی تارے اپنا کھربوں کا لشکر لے کر آسمان پر چھا جاتے وہیں سے اپنی رونق دکھاتے اور اور زمین کو غور سے دیکھتے کہ کو ي ہے جوان کے خوبصورت اور جگمگاتے چہروں کی تعریف کرے،کوي ہے جو ان خوبصورت قندیلوں کی قدر کرے، لیکن ان کو بھی اپنا قدر دان نہ نظر آیا۔
    تارے ابھی جگمگا رہے تھے یہ چاند پوری آب و تاب سے نکلا اور ساری زمین پر اپنی رخ روشن کا اجالا پھیلا دیا، جس سے ساری دنیا روشن ہو گي ، مگر یہ بھی پے سود، اس کا پھی کوي قدردان نہ تھا، آخر صبح ہوتے ہو تے تارے بھی جھلملا گۓ اور چاند نے بھی اپنی روشنی نی تہہ کر ڈالی۔
      بےپناہ سمندر کہ جن کا کوي اور چھور نہیں، جن کی تھاہ نہیں، جن کا جل تھل ایک ہے ،مگر وہ بھی بے قدر پڑے تھے ،کوي نہ تھا کہ ان پر سفر کرتا ،جہاز اور کشتیاں چلاتا، ان کی موجوں کے تھپیڑے ، پانی کی روانی اور ہواۓ خوشگوار کے ساتھ ان ان کی اٹھکلیوں کا تماشہ دیکھتا۔
 موسم بہارآیا  ،کالی اور متوالی گھٹايں چھايں،ہواۓ خوشگوار چلی، موسلادھار پانی گرا ،زمین پر سبز مخمل بچھا، اسی مخمل پر  گلکاریاں ہوہیں، پیڈ و پتے گل بوٹے،ہرے بھرے درخت کے پھلوں سے ڈالیاں ٹو ٹی،مختلف قسموں اور رنگارنگ پھولوں اور اور ان کی ہلکی ہلکی خشبو ؤں سے صحن چمن منہ سے بول اٹھا ،مگر کوي نہیں کہ اس دلکش بہار سے لطف اٹھا سکے بلبل کی نغمہ گیری اور قمریوں کی کوکو، پپیہا کی آوازیں، مور کی پکار، کبک وری کے قہقوں نے باغ سر پر اٹھایا مگر سننے والا نہ تھا۔

کوئ نہیں جو مجھے اور میری پیدا کی ہوئ نادرونایاب چیزوں سے فائدہ اٹھاۓ  مگر اس کو جواب دینے والا بھی نہیں 

پانی بھی چیخ چیخ کر اپنی شان و شوکت اور اہمیت بتاتا کہ میں اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہوں کوئ نہیں جو مجھ سے فايدہ اٹھاۓ، کوي نہیں جو میرا مزا چکھے میری مٹھاس کی تعریف کرے اور مزا لے، مگر اس کو بھی کوي جواب نہ ملا۔

  جواب دیتا کون،انسان ہوتے تو اچھا اور دلفریب جواب دیتا،اس لۓ کہ یہ تمام مخلوقات چرند، پرند،ہوا،پانی،درخت،پھول اور پودے وغیرہ  اللہ نے بنی نوع انسان کے لیےتخلیق کیے ہی،کیوں کہ انسان ہی کو ضروریات پیش آتی رہتی ہیں، انسان نہیں تو سب بیکار تھا فرشتے تھے تو فرشتے کیا کرتے،فرشتوں کی دنیا ہی نرالی تھی،۔

یہ شیطان جو اس وقت راندۂ درگان ہے اس وقت بڑا مقرب بارگہ تھا،یہ اس وقت ایسی عبا دت کرتا کہ تمام فرشتے بھی اس پر رشک کرتے، مقربین میں اس کا نام لکھا تھا کہ اس کے سجدے سے کوي کونہ نہیں بچا، غرض یہ کہ آسمان اس وقت فرشتوں کی عپادت سے رشک قمر ہو رہا تھااور زمین اللہ کی عبادت سے بے بہرہ پڑی تھی۔آسمان کو فخر تھا لور زمین شرم سے دبی جاتی تھی اور کہتی کہ کوي ایسا نہیں جو اس فرش خاکی پر اللہ کی عپادت کرکے میری شرم مٹاۓ،

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک و مقدس زمانہ میں یہی زمین رشک آفتاب اور رشک ماہتا بن گي، زمین فخر سے سر اٹھاتی اور آسمان ادب سے سر جھکاتا تھا،زمین کہتی تھی کہ ہمیں اب وہ ماہ رسلت ملا ہےکہ کسیاور کو نصیب نہیں۔ زمین کا ذرہ ذرہ کہتا تھا کہ میں ایک بڑی نعمت 


ہو
ں،

No comments:

Post a Comment